Friday, 11 April 2014

نسوانی حسن ہی نسوانیت کا سب سے بڑا اثاثہ ہے

نسوانی حسن ہی نسوانیت کا سب سے بڑا اثاثہ ہے
مکمل کورس مالش + کیپسول
 ایک ماہ کا مکمل کورس
 صر ف اور صرف 2000 روپے میں
ہاف کورس 15 دن 1000 روپے میں 
گھر بیٹھے بذریعہ ڈاک منگوانے کے لئے ابھی رابطہ کریں 
0300-8263288

عورتوں میں نسوانی حسن کی کشش ایک فطری تقاضہ ہے اور اس کو عمر بھر برقرار رکھنا کامیابی کی دلیل ہے۔یہ فطرت کا ایسا تقاضا ہے جو زندگی کو امنگوں ،مسرتوں اورکامیابیوں سے ہمکنار رکھتا ہے۔عورت کا اصل حسناس کے نسوانی حسن میں پوشیدہ ہے اور اس کے بغیر اس کا حسن ادھورہ رہ جاتا ہے۔بعض خواتین میں سن بلوغت میں میمری گلینڈ کی نشو و نما ہونے کے باعث سینے میں چربی اور عضلات نسبتاً کم ہوتے ہیں اسی وجہ سے ان لڑکیوں کے سینے کی نشو و نما نہیں ہو پاتی اور سینہ بالکل سپاٹ رہ جاتاہے۔نسوانی حسن بالکل نہ ہو نے کی وجہ سے بالخصوص لڑکیاں ا س قدر احساس کمتری کا شکار ہو جاتی ہیں کہ تقا ریب میں شرکت کرنا بھی چھوڑ دیتی ہیں۔اسی طرح بعض خواتین میں کثرت اولاد،بچوں کو فیڈ کروانے، کثرت محنت اور بعض دوسری اندرونی بیماریوں سے سینے کے ابھار میں توا نائی برقرار نہ رہنے کی وجہ سے وہ ڈھلک جاتے ہیں اور عورت کی اصل خوبصورتی ماند پڑ جاتی ہے۔
نسوانی حسن سے محروم اور احساس کمتری کا شکار خواتین کیلئے ایک خاص تحفہ 
بریسٹ  گرو کورسBreast Grow Course 
 
 
بریسٹ گرو کورس عورتوں اور لڑکیوں کے لئے ایک آزمودہ مکمل اور کامیاب علاج ہے جو آپ کے سرے سے ہی نہ ہونے والے فگر کی نشوونما میں رہ جانے والی کمی کو پورا کر کے جسمانی نشیب و فراز کو اجاگر کرتا ہے۔اور آپ نسوانی حسن میں اتنا اضافہ کر سکتے ہیں جتنا آپ چاہیں ۔بریسٹ گرو کورسسے ان سائیڈ بریسٹ جلد کے مردہ ٹشو ز کو دوبارہ نئی زندگی مل جاتی ہے اور وہ اتنی تیزی سے نشو و نما پاتے ہیں کہ چند ہی دنوں میں فگر بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ڈھلکے ہوئے فگر تن جاتت ہیں اور سخت و سڈول ہونے کے علاوہ ان میں فربہ پن آ جاتا ہے ۔ بریسٹ گرو کورس قدرتی اجزاء اور ہومیو پیتھک پر مشتمل فارمولا جو نا مکمل او ر ڈھلکے بدن کا فوری علاج ہے۔جس کا استعمال سینے میں تناؤ پیدا کرتا ہے اور ٹشوز کو Repairکرتاہے۔اپنے اجزاء کی بدولت آپ کو ان کی اٹھان اور صحت مند تناؤ کا بھر پور احساس دلاتا ہے۔اسی لئے ظاہر ی سراپے اور فگر کی کشش کیلئے بریسٹ گرو کورس کا استعمالبریسٹ میں Tighting, Firming اور Developing پیدا کرتاہے۔ نیز بچوں کی فیڈنگ کے بعد کے مسائل اور فگر کی دلکشی اور حسن میں کمی کو بھی بھرپور اندازمیں پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ ہر نوجوان لڑکی ، کم عمر لڑکی، شادی شدہ عورت جو اپنی جوانی کی ڈھلتی ہوئی عمر کی طرف گامزن ہو یا پھر اس میں داخل ہو چکی ہو ان تمام صورتوں میں اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کا نسوانی حسن ہمیشہ قائم رہے اور کسی بھی صورت خراب نہ ہونے پائے وہ اس حسن کو برقرار رکھنے کے لئے ہزاروں جتن کرتی ہیں لیکن قدرتی طور پر بعض ایس عوامل کار فرما ہوتے ہیں جس کی بنیاد پر کچھ لڑکیوں میں چھاتی کے غدود دسن بلوغت میں نشو و نما نہیں پاتے اور اس نشو و نما کے نہ ہونے کے 
باعث یہ خواتین نسوانی حسن سے محروم رہ جاتی ہیں ۔ان میںنسوانی حسن نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے۔نسوانیخوبصورتی کی بحال او ر اسے دیر تک قائم رکھنے کے ضمن میں بریسٹ گرو کورس کے اجزاء میں ایسی قیمتی ادویات کو شامل کیا گیا ہے جو نہ صرف سن بلوغت کےوقت سینے کے غدودو ں کو تحریک دے کر انہیں نشو و نما فراہم کرتے ہیں بلکہ عمر کے ساتھ ساتھ ان کے بڑھنے اور خوبصورتی کو حد تک قائم رکھتے ہیں ۔ مزیدبرآںشادی کے بعد بچے کی پیدائش اور اس کے بعد پھر بچے کو دودھ پلانے کے مرحلے کے وقت عام طور پر چھاتیوں کی نشو و نما میں کمی آجاتی ہے اس کی کمی کو بھی بریسٹ گرو کورس بھر پور انداز میں پورا کرنے کی صلاحت رکھتا ہے۔بریسٹ گرو کورس نقصان دہ اجزاء سے پاک ہر عمر کی شادی شدہ و غیر شادی شدہ خواتین کیلئے یکساں مفید۔

مکمل کورس مالش + کیپسول
 ایک ماہ کا مکمل کورس
 صر ف اور صرف 2000 روپے میں
ہاف کورس 15 دن 1000 روپے میں 
گھر بیٹھے بذریعہ ڈاک منگوانے کے لئے ابھی رابطہ کریں 
0300-8263288

ؑ


پانی سے علاج واٹر ہائیڈروتھیراپی

علاج کی غرض سے پانی کااستعمال ’’واٹر ہائیڈروتھیراپی‘‘


اس زمین پر پانی ایک معجزہ ہے جو ہائیڈروجن کے دو ایٹمس اور آکسیجن کے ایک ایٹم کےباہم ملنے سے برپا ہواہے۔ رب کائنات نےجب اس زمین کی تخلیق فرمائی تو یہاں ایک متعینہ مقدار میں پانی اتارا اور ہر زندہ شے پانی سے پیدا کی۔ اس سرزمین پر خشکی کے مقابلےپانی کی مقدار ستر فیصد ہے اور انسانی جسم میں بھی اس کا یہی تناسب برقراررکھا گیا ہے۔

سائنس دانوں کاخیال ہے کہ پانی ایک ایسی دواکے مانند ہے جو نہ صرف انسانی بیماریوں کو روکتاہے بلکہ اہم بیماریوں کا علاج بھی کرتا ہے۔ لورین آئینسلے کے مطابق اس سرزمین پر اگر کوئی جادوئی شے ہے تو وہ پانی ہے۔ انسانی جسم میں دل جیسا اہم عضو اس وقت سے دھڑکنا شروع ہوجاتاہے جب بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں محض بیس دن کا ہوتاہے اور پھر اس کی آخری سانس تک دھڑکتا ہی رہتا ہے۔ دل کادھڑکنے کے لیے بار بار سکڑنا اور پھیلنا اس پانی کی وجہ سے ممکن ہے جو اس کے خلیوں میں موجود ہوتاہے۔ آنتوں میں نظام ہضم کے لیے پانی ہی ذمے دار ہے۔ غذا میں موجود تغدیات پانی میں حل ہوکر ہی خون میں منتقل ہوپاتے ہیں جہاں سے وہ جسم کے ایک ایک خلیے میں پہنچ کر توانائی فراہم کرتے ہیں۔
انسانی جسم میں پانی کی کمی سے طرح طرح کے مسائل پیداہوتے ہیں۔ بالخصوص چھوٹےبچوں، بوڑھوں یا لمبی بیماری میں مبتلا مریضوں میں پانی کی کمی مہلک ثابت ہوسکتی ہے۔ ایسی ہلاکت خیزی کے تجربات عام طورپر سامنے آتےرہتے ہیں۔ بزرگوں، بچوں یا مریضوں کو اگر غیرمعمولی طورپر الٹیاں یا دست آجائیں تو انھیںمسلسل پانی پلانے کامشورہ دیاجاتاہے کیونکہ اگر یہ صورت حال دیر تک جاری رہ جائے تو اس کے مہلک نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بہت سی بیماریاں جیسے قبض، سردرد، خواتین میں حیض کی بے قاعدگی، وزن میںاضافہ، بلڈپریشر، چکرآنا، جوڑوں کاورم اور درد، ذہنی خلفشار، کولسٹرول میںاضافہ، آنکھوں کا جریان خون، اعضا کی کارکردگی کا معطل ہوجانا، انیمیا، سائنو سائیٹس، قلبی عارضے یہاں تک کہ قولون، الیوفیکس، جگر، پھیپھڑوں اور رحم کے کینسر کے لیے بھی پانی کی کمی ذمّے دار ہوتی ہے لیکن اگر اس کمی کی طرف توجہ دی جائے تو بڑی حد تک ان بیماریوں سے محفوظ رہاجاسکتا ہے۔ پانی دماغی خلیوں کو قوت دیتا اور یادداشت کو بڑھاتا ہے: دماغ کے گرے میٹر (Greymatter) میں ۸۵فیصد تک پانی ہوتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر اس میںصرف دو فیصد کی کمی واقع ہوجائے تو یاد داشت متاثر ہونے لگتی ہے اور انسانوں کی جوڑنے اور گھٹانے کی اہلیت کم ہوجاتی ہے۔ اگر جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دی جائے تو دماغی صلاحیتوں کو نارمل رکھاجاسکتا ہے۔
پانی قلب کی نارمل دھڑکن کیلئے ضروری
تجربات سے پتا چلتاہے کہ جسم میں پانی کی کمی سے دل کی دھڑکن بے قاعدہ ہوجاتی ہے لیکن اگر اس کمی کو بحال کردیاجائے تو دھڑکن نارمل ہوجاتی ہے۔
گردے کی پتھری کیلئےپانی بے مثل دوا
حضرت عیسیٰؑسے بھی ۴۰۰ سال قبل ہپّو کریٹس (Hippocrates) نے پیشاب کی نالی میں پتھری کی تکلیف کو رفع کرنے کے لیے زیادہ مقدار میں پانی پینے کی سفارش کی تھی۔ موجودہ سائنس کے مطابق بھی گردے کی پتھری سے حفاظت کا بہترین طریقہ کثیر مقدار میں پانی کا استعمال ہے۔ گردے کی پتھری سے بچنے کے لیے عام طور سے جو کا پانی تجویز کیاجاتا ہے۔
موٹاپے کا علاج پانی
زیادہ پانی پینے والے کھانا کم کھاتے ہیں اور اس طرح قدرتی طورپر ان کاوزن قابو میں رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق وہ لوگ جن کا وزن بڑھا ہوا ہو وہ روزانہ پانچ سے ۶ گلاس نیم گرم پانی پئیں اور پھر پانی کے کرشمے دیکھیں کہ وہ کس طرح ان کے بڑھے ہوئے وزن کو کم کردیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر صبح نہار منہ صرف دو گلاس تازہ پانی ہی پی لیاجائے تو وہ عام صحت کو قائم رکھنے کے لیے کافی ہے۔ کیونکہ صبح اٹھنے کے بعد پیٹ خالی ہوتا ہے اس لیے پانی کو جسم کے زہریلے مادے خارج کرنا آسان ہوتاہے اس کے علاوہ پانی خون کو پتلا کرنے اور بدن کے اہم اعضا کو تقویت پہنچاکر انھیں چاق و چوبند رکھنے میںبھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اوپر بیان کی گئی بیماریوں کو روکنےمیں بھی پانی بہت اہم رول ادا کرتا ہے۔اس سلسلے میں مسٹر آر جی گنگن وانی نے عوام کی بہبود کے خیال سے ’دکن کرانیکلس‘ نامی میگزین میں ’پانی سےمعجزاتی علاج‘ عنوان کے تحت ایک مضمون شائع کیاتھا جس میں انھوںنے ’جاپان سکنیس ایسوسی ایشن‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھاتھا کہ پانی کے ذریعے بہت سی بیماریوں کا علاج ممکن ہے۔ ان میں سردرد، ہائی بلڈپریشر، دمہ، نرخرے کی جھلی کا ورم، انیمیا، عام فالج، موٹاپا، جوڑوں کا ورم اور درد، ناک کے جوف کی سوجن، کھانسی، پھیپھڑوں کی دِق، جگر کی خرابی، پیشاب اور تناسلی امراض ، تیزابیت، پیچش، کانچ نکلنا، قبض، ذیابیطس، امراض چشم، بے قاعدہ حیض، لیکوریا، حلق کا ورم اور رحم و پستان کے کینسر جیسی بیماریاں شامل تھیں۔
اب سے تقریباً ۲۵۰۰ سال پہلے کنفیوسیٹس نے کہاتھاکہ کسی بھی جاندار کی صحت اس کے معدے کی صحت پر موقوف ہوتی ہے۔ اس بیان کی روشنی میں رمضان کے روزے اللہ کا انتہائی کرم اور اس کی رحمت سے تعبیر کیے جاسکتے ہیں۔ دیکھاجائے تو صاف پانی جسم کے اندر پہنچ کر پوری طرح اس کی صفائی کردیتا ہے تاکہ نظام ہضم کی کارکردگی بڑھ جائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب پانی کے ذریعے قولون اور آنتوں کی اندرونی جھلی دُھل کر صاف ہوجاتی ہے تو غذا میں موجود تغذیات کا خون میں انجذابی عمل تیز ہوجاتاہے اور نتیجے میں جسم کے اندرصحت مند خون کا اضافہ ہوجاتاہے۔ ظاہر ہے یہ صحت مند تازہ خون جسم کے جس حصے میں پہنچے گا وہاں کی بیماریوں اور عارضوں کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
پانی کے ذریعے علاج کا طریقہ یہ ہے کہ صبح اٹھنے کے فوراً بعد۱ء۲۶ کلو یا ۱۲۶۰ملی  لیٹر تازہ، صاف پانی پی لیاجائے۔ یہ کام منہ ہاتھ دھونے اور دانت صاف کرنے سے بھی پہلے کیاجانا چاہیے۔ اگلے پینتالیس منٹ تک کچھ بھی کھایا پیا نہ جائے۔ اس بات کا بھی خیال رہے کہ رات کو سونے سے پہلے جسم کو متحرک کرنے والی کوئی شے یا مشروب کااستعمال نہ کیاجائے۔ ایک دفعہ میں اس قدر پانی پی لینا یقیناً ایک مشکل کام ہے لیکن چند روز کی کوشش اسے آسان بنادے گی۔ ایک بار میںجس قدر بھی پانی آسانی سے پیاجاسکے پی لیں اور اس کے بعد یا تو لیٹ جائیں یا پھر ایک جگہ کھڑے ہوکر چلنے کی کوشش کریں۔ تھوڑا وقفہ دے کر باقی پانی بھی پی لیں۔ چند روز ضرور دشواری محسوس ہوگی لیکن بعدمیں یہ کام آسان ہوجائے گا۔ جوڑوں کی سوجن یا درد میں مبتلا مریضوں کو پہلے ہفتے میں پانی پینے کا یہ عمل دن میں تین باردہرانا چاہیے لیکن بعد میں صرف ایک ہی بار پانی پینا کافی ہوگا۔ پانی سے علاج کے دوران کھانے کے دو گھنٹے بعد پانی پینا چاہیے۔ ساتھ ہی مشروبات وغیرہ سے بھی مکمل طورپر پرہیز کرنا چاہیے۔ تجربات شاہد ہیں کہ پانی کے ذریعے حسب ذیل بیماریاں ان کے سامنے دی گئی مدت میں دور ہوسکتی ہیں۔
۱۔ ہائی بلڈپریشر-ایک مہینہ
۲۔قبض-ایک یا دودن
۳۔ ذیابیطس-ایک سے دو ہفتے
۴۔کینسر -ایک مہینہ
۵۔ پھیپھڑوں کی دق۳ سے ۹ مہینے
اس طریق علاج  کو اپنانے والے ایک نوجوان کا کہناتھا کہ پہلے روز پانی پینے کے بعد اُسے تین بار پیشاب کے لیے جانا پڑا جس کے بعد اُسے ناشتہ انتہائی ذائقہ دار اور راحت بخش محسوس ہوا۔ دوسرے دن اس کے اجابت کے مسائل حل ہوگئے اور تین مہینوںکے اندر اس کا وزن بڑھ گیا۔ اس نے بتایاکہ اس علاج کے بعد سے اب تک وہ کبھی بیمار نہیں ہوا یہاں تک کہ معمولی نزلہ اور کھانسی تک اسے نہیں ہوئی۔
علاج کی غرض سے پانی کااستعمال ’’واٹر ہائیڈروتھیراپی‘‘ (Water or Hydro - Therapy)کہلاتا ہے۔ پانی پی کر بیماریوں کا علاج یا روک تھام واٹر تھیراپی کا صرف ایک پہلو ہےجب کہ دوسرا ایک پہلو اور بھی ہے جس میں پانی کو جسم کے باہر سے استعمال کیاجاتا ہے۔
عام گرم پانی کے ٹب میں لیٹنے یا پھر گندھک کے چشموں سے نکلنے والے گرم پانی میں خود کو ڈبونے سے جو لطف اور راحت حاصل ہوتی ہے وہ تو ہے ہی تاہم اس عمل کے دوران نہ صرف جسم کے بہت سے درد رفع ہوجاتے ہیں بلکہ جسمانی حرکت میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور بعض بیماریاں تک دور ہوجاتی ہیں۔ انسانی جسم جیسے ہی گرم پانی کے اندر جاتاہے، اسی لمحے پانی کے فوائد حاصل ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔ سب سے پہلے اسے گرمی کا احساس ہوتا ہے جس کے ساتھ ہی پانی اس کے جسم کو اوپر اچھال کر ہلکا کردیتا ہے اور وہ کسی قدر زمینی کشش سے آزاد ہوجاتا ہے اور پھر ان کے اثر سے جسم کا دورانی نظام متاثر ہونے لگتا ہے۔
گرم پانی جسم کو گرم کردیتاہے۔ یہ عمل اوپری جلد سے شروع ہوتا ہے۔ فورا ہی دل اپنی کارکردگی تیز کردیتاہے اور وہ زیادہ قوت سے خون پمپ کرتا ہے تاکہ جسم کی اوپری شریانوں میں پہنچ کر بڑھی ہوئی حرارت کو نارمل کرنے کا عمل شروع کرسکے۔ اوپری شریانوں میں تیزی سے خون کا دوران وقتی طورپر خون کا دبائو بڑھا دیتا ہے۔ گرم خون کے زیراثر تیزی سے پسینہ آتا ہے جو عام حالت میں جلد سے نکل کر بخارات کی شکل میں فضا میں تحلیل ہونے لگتا ہے جس کے ساتھ ہی جسمانی درجہ حرارت نارمل ہونے لگتا ہے۔ لیکن گرم پانی میں ڈوبے ہوئے جسم سے پسینہ نہیں نکل پاتا اور اوپری شریانوں کا خون جب جسم کے دوسرے حصوں میں گہرائی تک پہنچتا ہے تب وہ پورے جسم کو مزید گرم کردیتا ہے۔ اگر گرم پانی کا درجہ حرارت ۱۰۴ ڈگری فارن ہائیٹ تھا تو ۲۰ منٹ کے اندر جسم کا مجموعی درجۂ حرارت ۱۰۲ ڈگری فارن ہائیٹ ہوجاتا ہے۔
گرم پانی میں لیٹنے والے تصدیق کریں گے کہ کچھ دیر بعد ہی بے حد راحت اور سکون کا احساس ہونے لگتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گرم خون جسم کی شریانوں میںلگاتار گردش کرتا رہتا ہے اور اس کی بڑھی حرارت شریانوں کو پھیلاکر چوڑا کردیتی ہے جس کے سبب دوران خون زیادہ آسانی اور بغیر کسی رکاوٹ کے ہونے لگتا ہے اس کی وجہ سے بڑھا ہوا بلڈ پریشر ایک بار پھر نیچے آجاتا ہے۔
وجہ چاہے کچھ بھی ہو لیکن اگر جسم کا کوئی عضلہ کبھی کسی تنائو کا شکار ہوجائے تو وہ اپنےاندر موجود نسوں اور رگوں پر بھی اثرانداز ہوتاہے۔ رگوں کے اندر دوران خون میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور وہ عضلے کو اتنی مقدار میں آکسیجن مہیا کرنے میں ناکام ہوتاہے جتنی کہ مہیا کرنا چاہیے جس سے عضلے میں گھٹن اور درد کی شکایت میں اضافہ ہوجاتاہے اور اس طرح عضلے میں تکلیف اور ناخوشگواری کااحساس بڑھ جاتا ہے لیکن جیسے ہی وہ عضلہ گرم پانی کے اندر جاتاہے الٹا عمل شروع ہوجاتاہے اور اسے راحت اور طمانیت محسوس ہونے لگتی ہے۔ گرم پانی رگوں کو کھولتا ہے اور ان میں رکاوٹ دور ہونے سے دوران خون تیز ہوجاتاہےجس کے زیرِ اثر عضلے کو آکسیجن کی خاطر خواہ فراہمی بحال ہوجاتی ہے۔ نسوں پر دبائو جیسے جیسے کم ہوتاہے ویسے ویسے درد اور تکلیف میں افاقہ ہونے لگتاہے اور عضلےمیں راحت اور خوشگواری کا احساس بڑھنے لگتا ہے۔ اگر طبی زبان میں بات کریں تو جب کوئی عضلہ تنائو سے آزاد ہوتاہے تو اس کے مختلف ریشوں کے درمیان فاصلہ پیدا ہوجاتا ہے اور اس طرح خون کی رگوں کو خون کی ضروری مقدار وہاں پہنچانے میں بالکل وقت نہیں ہوتی۔ جسمانی تحول کے نتیجے میں عضلے کے اندر جو بھی زہریلے فاضل مادّے جیسے لیکٹک ایسڈ وغیرہ پیدا ہوجاتے ہیں خون انھیں باہر نکال کر ان کی جگہ تازہ آکسیجن اورغذا سے حاصل کیے ہوئے تغذیات وہاں پہنچادیتا ہے جس کے ساتھ ہی عضلہ راحت اور خوشگواری کا احساس کرنے لگتا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر گرم پانی میں جسم کو ڈبونے کے ساتھ ساتھ عضلات کی تھوڑی ورزش اور مساج بھی کرلیاجائے تو نتائج اور بھی بہتر اور دیرپا ہوتے ہیں۔ واٹر تھیراپی کا یہ طریقہ ان لوگوں کے لیے بہت کارآمد ہے جو عموماً ایک جگہ بیٹھ کر لکھنے کا یا پھر کمپیوٹر وغیرہ پر کام کرتے ہیں اور جس کے باعث ان کی گردن، کمر یا ہاتھوں پیروں کے حصوں میں عضلات اکڑجاتے ہیں۔

سیکس کرنے کے طریقے

The seated scissors
sex position: The seated scissors

اس پوزیشن میں عورت ایکٹیو حالت میں ہوتی ہے اور وہ اپنی ضرورت کے مطابق دخول کرواتی ہے اس حالت میں مرد سیدھا لیت جاتا ہے اور اس کے گھٹنے مڑے ہوئے ہوت ہیں عورت مرد کی ایک ٹانگ اپنی پشت کے درمیان سے باہر نکالتی ہے 
اور دوسری ٹانگ مرد کی ٹانگ کے درمیان اس طرح عورت سیکس کرنے کے لئے بہترین پوزیشن حاصل کرتی ہےوہ دباو ، رگڑ اور رفتار کو خود کنٹرول کر رہی ہوتی ہے اس لئے بہت زیادہ لطف حاصل کرتی ہے  . 

بہترین سیکس تیکنیک The counter top

The counter top

اس طریقہ میں عورت میز یا کاونٹر پر پشت کے بل لیٹتی ہے جب کہ مرد کھڑا ہو کر دخول کرتا ہے یہ بہت انجوائے کرنے والی  حالت ہوتی ہے اس میں مرد آسانی سے حرکت کر سکتا ہے اور عورت کو مزید لطف دینے کے لئے کاونٹر یا میز پر آگے پیچھے آہستہ آہستہ دھکیل سکتاہے اور  ایسا کرنے میں مرد کو عضو بھی باہر نکالنا نہیں پڑتا وہ گہرائی تک دخول کرتاہے اور یہ تکنیک بہت زیادہ موثر ہے   

Monday, 7 April 2014

عورتوں کو جلد منزل کرنے کے لئے بہترین سیکس تکنیک

Modified coital alignment technique
یہ ایک آرام دہ اور لطف سے بھرپور پوزیشن ہے جب مرد گہرائی تک عورت کی فرج میں دخول کر لیتا ہےتو وہ عورت کی ٹانگیں اپنی ٹانگوں کے درمیان میں رکھتے ہوئے اپنا جسم کا وزن آہستگی سے آگے کی طرف منتقل کرتا ہے اس طرح بہت زیادہ رگڑ پیدا ہوتی ہے اور مرد جب آگے پیچھے حرکت کرتا ہے توبھرپور رگڑ پیدا ہوتی ہے یہ ان عورتوں کے لئے بہترین طریقہ ہے جو جلد منزل نہیں ہوتی ہیں اس طریقہ سے ایسی عورتیں بھرپور انزال اور لطف لیتی ہیں     

عورتوں کو جلد منزل کرنے کے لئے بہترین سیکس تکنیک


Butterfly Position  تتلی کی پوزیشن
اس پوزیشن میں عورت اپنی کمر کی پشت بستر سے اور 

کولہے کوبستر کے بالکل کنارے پر لے آتی ہے اور مرد 

کھڑا ہو کر دخول کرتاہے اس کے بعد عورت اپنی ٹانگیں مرد 

کے کندھوں پر رکھتے ہوئے اپنی کولہے کو تھوڑا سا اوپر 

اٹھاتی ہے اس طریقہ مباشرت میں مردانہ عضو اندر تک دخول 

کرتاہے اور عورت کے اندام نہانی کا منہ بالکل سامنے ہونے 

کی وجہ سے عورت جلدی انزال ہو جاتی ہے یہ طریقہ 

ایسے جوڑوں کے لئے بہترین ہے جن مردوں کا عضو تناسل 

چھوٹا ہو اور عورت مکمل منزل تک نہ پہنچ سکے    

لیکوریا کیا ہے؟ لیکوریا کا علاج


لیکوریا

تعارف :

لیکوریا عام طور پر سفید مادہ کے اخراج کے نام سے جانا جاتا ہے جو زنانہ اعضائے تولید کی بیماری ہے جس میں سفید مادہ زنانہ ستر سے خارج ہوتا ہے۔ اس کا سنکرت نام شویتا پرادرا‘ دو الفاظ مجموعہ ہے شویتا کا مطلب سفید اور پرادرا کا مطلب اخراج۔
لیکوریا کی عام تعریف سفید مادہ ہوتا ہے جو زنانہ اعضائے تولید جنسی عضو سے خارج ہوتا ہے۔ یہ اخراج بالکل ہموار طور پر بہتا ہے یا پھر چپکنے والا اور گاڑھا ہوتا ہے۔ اس کی ہئیت خواتین کی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بدلتی ہے یا وہ بہت سفر کریں تو تبدیلی ہوتی ہے۔ زنانہ جنسی مخصوص عضو سے مادہ کا اخراج ایک خاص حد تک صحت مندی کی علامت اور عام بات ہے‘ یہ اخراج اصل میں اعضائے تولید کے مردہ خیلوں کا مائع صورت میں ہوتا ہے اور یہ وہ زہریلے اجزاءہوتے ہیں جو کہ مسلسل عضو سے خارج ہوتے رہتے ہیں۔ عام صحت مند خواتین میں یہ اخراج سفیدی مائل ہوتا ہے لیکن اگر اخراج رنگت میں گاڑھا ‘لیسدار‘سفید رنگ اور جلن دار ہو جائے تو طبی معائنہ کی ضرورت ہے۔ علامات کے مطابق صورتحال جب سنگین اور اخراج میں کوئی غیرمعمولی عمل ہوتو درج ذیل حالات میں لیکوریا کے علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔
۱۔ اگر اخراج بہت زیادہ اور مسلسل ہو اور اس کو روکنا مشکل ہو‘ یہاں تک پیڈ رکھنا پڑے۔
۲۔ اگر اخراج بالکل سفید نہ ہو بلکہ یہ سرمئی مائل سفید ہو‘ پیلا ہو یا سبز ہو‘ بھورا ہو یا زنگ جیسا ہو اور اخراج کے دوران خارش کا احساس ہو۔
اسباب :
درج ذیل کچھ مشہور اسباب ہیں۔
1- کسی قسم کی پھپھوندی سے ہونے والا انفیکشن
کوئی فنگس جیسے کہ خمیر اعضائے تولید یا جنسی اعضاءمیں انفیکشن کا باعث ہوتے ہیں جس کی وجہ سے لیکوریا ہو جاتا ہے جب یہ بیماری فنگس کی وجہ سے ہو تو اخراج گاڑھا ہو گا۔ سفید ہو گا اور اس کے ساتھ جنسی عضو میں خارش کا احساس ہو گا۔ اس قسم کے اخراج کو زنانہ عضو کی پھپھوندی کہا جاتا ہے۔
2- طور پر منتقل شدہ بیماری:
کچھ جنسی طور پر منتقل شدہ بیماریاں خواتین میں لیکوریا کا سبب بنتی ہیں۔ اس میں جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماری Trichomoniasis ہے جس میں اخراج سبزی مائل یا پیلا ہوتا ہے۔
3 گندے بیت الخلائ سے:
بیت الخلاءکی اشیاءکا مشترکہ استعمال‘ خاص طور پر عوامی بیت الخلاءزنانہ جنسی عضاءکے انفیکشن کا باعث بنتے ہیں جس کے نتیجے میں لیکوریا کا مرض ہو جاتا ہے۔ یہ ان خواتین میں دیکھنے میں آیا ہے جو جنسی عضو کی ادویات کا زیادہ استعمال کرتی ہیں۔
4- بچے دانی کے آخری تنگ حصے کے مسائل :
اس میں بچے دانی کے سرے پر چھالے یا ورم بھی لیکوریا کا باعث ہو سکتا ہے۔ اس حالت میں لیکوریا کا اخراج بہت زیادہ ہوتا ہے بلکہ جنسی ملاپ کے دوران ہونے والے اخراج سے بھی زیادہ ہوتا ہے اور یہ بھورے رنگ کا ہوتا ہے اور جمے ہوئے خون سے مشابہت رکھتا ہے۔
5-کے نچلے حصہ کی سوزش:
پیلوس یا پیٹ کے نچلے (جس میں تولیدی و جنسی اعضاءہوتے ہیں) پیلوس میں انفیکشن کے باعث سوزش ہو سکتی ہے۔ اس حصے میں سوزش بھی لیکوریا کا سبب بنتی ہے
6- مختلف بیماریوں کی وجہ سے:
وہ خواتین جو مختلف بیماریوں کا شکار ہوتی ہیں جیسے کہ تپ دق‘ یا انیمیا (خون کی کمی) ان کے جنسی عضو سے اخراج کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے یہ ان خواتین میں دیکھا گیا ہے جو کہ بیماریوں کے خلاف مدافعت نہیں رکھتیں یا ناقص خوراک استعمال کرتی ہیں۔
7- دباﺅ اور تناﺅ:
لیکوریا کا کچھ سبب نفسیاتی بھی ہوتا ہے جو خواتین بہت دباﺅ میں رہتی ہیں‘ یا پریشانیوں کا شکار رہتی ہیں ان میں لیکوریا کا مرض ہوسکتا ہے۔اور بعض خواتین اتنی خوف زدہ ہوتی ہیں اور کلینک میں آکر کہتی ہیں ڈاکٹر صاحب ہماری ہڈیاں گھل رہی ہیں۔
لیکوریا کی اقسام:
لیکوریا کی مختلف اقسام کی جماعت بندی اخراج کے رنگ اور اسباب کی بناءپر کی گئی ہے۔ درج ذیل جدول ان اقسام کا خلاصہ واضح کرتا ہے۔
لیکوریا کی قسم
سبب
اخراج کا رنگ
انفیکشن کا لیکوریا
پھپھوندی کے باعث ہونیوالا انفیکشن
گاڑھا اور سفید خارش کا احساس لئے ہوئے
جنسی طور پر منتقل شدہ لیکوریا
جنسی طور پر منتقل شدہ لیکوریا جیسے کہ Trichomoniasis
سبز اور پیلے رنگ کا اخراج
سرویکل لیکوریا
بچہ دانی کے سرے پر چھالے یا ورم آجانا
خون سے مشابہ زنگ کے جیسا بھورا اخراج
پیٹ کے نچلے حصہ ‘ جہاں اعضائے تولید ہوتے ہیں‘ کا لیکوریا
پیٹ کے اس حصے میں خرابی جو اعضائے تولید پر مشتمل ہوتا ہے‘ خاص طور پر اس حصے کی سوزش
سفید رنگ کا اخراج ‘ کمر کے نچلے حصہ میں درد کے ساتھ
ذہنی دباﺅ یا تناﺅ کے سبب ہونے والا لیکوریا
ذہنی دباﺅ اور تناﺅ
پتلا سیفد اخراج ‘ بہت زیادہ مقدار میں
لیکوریا کی علامت :
لیکوریا کی سب سے واضح علامت عام طور پر زنانہ جنسی عضو سے ہونے والے اخراج میں غیرمعمولی پن ہے۔ یہ اخراج درج ذیل علامات جیسا ہوتا ہے:
۱۔ عام حالت سے گہرے رنگ کا اکثر پیلا یا سبز یا بھورا
۲۔ سفید لیکن مقدار میں زیادہ
۳۔ اخراج کے ساتھ خارش کا احساس ہو اور پیٹ کے نچلے حصہ میں درد ہوتا ہے۔
لیکوریا کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیاں:
لیکوریا ایک معمولی بیماری ہے اگر اس کو ابتداءمیں ہی پکڑ لیا جائے تو اور کسی کو اخراج میں کوئی غیرمعمولی پن محسوس ہو تو وہ فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرے۔ بروقت علاج سے یہ مسئلہ دو دن یا ایک ہفتہ میںحل ہو سکتا ہے۔
ایک بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ لیکوریا میں کوئی بھی دوا ازخود استعمال نہیں کرنی چاہئے۔
بازار میں بہت سی کریمیں‘ مرہم اور گولیاں دستیاب ہیں۔ ان کو ماہر امراض نسواں کے مشورے کے بغیر استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ کچھ خواتین لیکوریا میں استعمال ہونے والی ادویات سے الرجی ہوتی ہے اس کی وجہ سے مزید انفیکشن ہو سکتا ہے اور معاملہ مزید بگڑ سکتا ہے اس لئے بہتر ہے اس کی احتیاط کی جائے۔
لیکوریا کی منتقلی:
لیکوریا جو کہ خمیر کی طرح پھپھوندی سے منتقل ہوتا ہے اور عورت سے دوسری عورت میں بہت آسانی سے منتقل ہو جاتا ہے۔ جب ایک متاثرہ خاتون کے کپڑے ایک صحت مند خاتون کے کپڑوں سے ملیں گے اس کی وجہ سے یہ بیماری اسے بھی متاثر کر سکتی ہے۔ لہٰذا اپنے زیر جامہ اچھی طرح اعلیٰ قسم کے ڈیٹرجنٹ سے دھوئیں جو کپڑوں پر لگی فنگس یا داغ کو صاف کر سکے۔ لیکوریا غیرمحفوظ جنسی رابطے کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔ ایک شخص کے گندے اعضائے تولید عورت کے گندے اعضائے تولید کو انفیکشن سے متاثر کر سکتے ہیں جو کہ لیکوریا کا باعث ہوسکتے ہیں۔
لیکوریا سے بچاﺅ:
بہت سی احتیاطی تدابیر ہیں‘ جن پر عمل کرنے سے لیکوریا سے بچا جا سکتا ہے۔
چند رہنماءاصول درج ذیل ہیں:
تولیدی اعضاءکی صفائی ستھرائی بہت اہم ہے۔
اپنے جنسی تولیدی اعضاءکو غسل کے دوران دھوئیں۔
Anus اینس اور ولوا Vulva زنانہ اعضائے تناسل کی تہوں پر پانی بہت زیادہ بہائیں۔
نہانے کے بعد اپنے صاف تولئے سے تولیدی اور تناسلی اعضاءکو خشک کریں۔
نہانے کے بعد تولیدی اور تناسلی اعضاءکو گیلا مت چھوڑیں۔
بہت زیادہ پانی پیئیں تاکہ جسم سے زہریلے مادے خارج ہوں۔
اس بات میں بہت باقاعدہ رہیں کہ پیشاب کے بعد اچھی طرح اس حصے کو صاف کرلیں۔
اگر بارش یا کام کے دوران کپڑے بھیگ جائیں تو انہیں فوراً تبدیل کرلیں۔ نائیلون کے کپڑوں سے احتیاط برتیں‘ خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں کیونکہ اس سے جنسی اعضاءمیں پسینہ جمع ہو جاتا ہے‘ زیر جاموں کیلئے سوتی کپڑا بہترین ہے۔
اگر آپ سے جنسی ملاپ کرنے جا رہے ہیںتواس بات کا اچھی طرح یقین کرلیں کہ آپ کا ساتھی کسی بھی قسم کے انفیکشن سے پاک ہو اس عمل کے بعد آپ کو اور آپ کے ساتھی کو اپنے جنسی اعضاءاچھی طرح دھونے چاہئیں‘ اس سے بہت سی بیماریوں سے بچ جائیں گے۔ جنسی عمل کے بعد اسے اپنا معمول بنا لیں۔
انگشت زنی سے مکمل پرہیز کیا جائے۔
تولیدی اعضاءکے اردگرد پاﺅڈر‘ پرفیوم اور دیگر کاسمیٹکس کا غیرضروری استعمال نہ کیا جائے۔ تناﺅ اور دباﺅ کو کم کرنے والی ورزشیں روانہ کی جائیں‘ صبح سویرے سیر کی جائے‘ اگر جسم دباﺅ سے پاک ہو گا تو اس میں بیماری کے خلاف مدافعت زیادہ ہوگی۔
لیکوریا سے بچاﺅ کیلئے خوراک:
لیکوریا سے بچاﺅ خوراک میں تبدیلی لا کر بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس تبدیلی کا مطلب ہے‘ نقصان دہ غذا کو خوراک میں سے نکال کر کچھ ایسی غذاﺅں کو خوراک میں شامل کرنا جو فائدہ مند ہوں۔
درج ذیل خوراک لیکوریا سے متاثر خاتون کیلئے مثالی ہے:
چینی سے پرہیز کرنا چاہئے اگر اخراج بہت زیادہ مقدار میں ہو‘ اس کا اطلاق تمام میٹھی چیزوں پر ہوتا ہے جیسے کہ مٹھائی‘ پیسٹری‘ کسٹرڈ‘ آئس کریم اور پڈنگ‘ کھمبیاں یا مشروم سے پرہیز کرنا چاہئے کیونکہ یہ بھی پھپھوندی کی ایک قسم ہے۔ کچھ کھمبیاں آلودگی پیدا کرتی ہیں۔
گرم اور مصالحہ دار اشیاءجو کہ پیچیدگیاں پیدا کرتی ہیں‘ ان کو خوراک میں کم سے کم استعمال کرنا چاہئے۔